منگلورو 15/ اکتوبر (ایس او نیوز) نوراتری کے حوالہ سے منائی جارہی "آیودھا پوجا" (زندگی کی ضرورت پورا کرنے والے اوزار اور ہتھیار کی پوجا) کےموقع پر وشواہندو پریشد کے دفتر میں منعقدہ تقریب سمیت کئی علاقوں میں بجرنگ دل کی طرف سے اپنے رضاکاروں کو "ترشول دیکشا" (نذرانہ) دئے جانے کا معاملہ سامنےآیا ہے ۔
منگلورو پولیس کمشنر ششی کمار نے بتایا کہ :" میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ وی ایچ پی اور بجرنگ دل نے شہر کے علاوہ مختلف مقامات پر منعقدہ 'آیودھا پوجا' کے دوران 'ترشول دیکشا' دی ہے ۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ کام ہر سال آیودھا پوجا کے موقع پر کیا جاتا ہے ۔ میں نے پولیس افسران اس بات کا جائزہ لینے کے لئے کہا ہے کہ کیا یہ خلاف قانون ہے یا نہیں ۔ "
معلوم ہوا ہے کہ بجرنگ دل لیڈر رگھو سکلیشپور اور وی ایچ پی لیڈر شرن پمپ ویل کی سربراہی میں منگلورو شہر کے علاوہ اڈپی اور پتور میں بھی 'آیودھا پوجا' کا انعقاد کیا گیا تھا۔ پوجا کے بعد تقریباً 150 بجرنگ دل کے سرگرم کارکنوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے لئے ترشول کا نذرانہ دیا گیا ۔ جس کے فوٹو سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس پر سخت تنقید کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔
خیال رہے کہ ابھی دو دن قبل وزیراعلیٰ بومئی نے ہندوتوا وادی نوجوانوں کی طرف سے اخلاقی پولیسنگ کے بھیس میں کی جارہی غیر اخلاقی دھاندلیوں کا جواز دیتے ہوئے کہا تھا کہ ' جب جذبات کو ٹھیس پہنچے گی تو عمل کا رد عمل ہوتا ہی ہے ۔' اس پس منظر میں بجرنگی کارکنان کو ڈنکے کی چوٹ پر ترشول دینے کی کارروائی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے ۔ جبکہ پولیس کمشنر ابھی یہ طے نہیں کر پارہے ہیں کہ 'ترشول دیکشا' غیر قانونی سرگرمی کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں ۔